نئی دہلی،2؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) دفعہ 370 کے تحت کشمیر کوحاصل خصوصی رعایت کو ختم کرنے کے لئے بی جے پی حکومت آر پار کے موڈ میں نظر آرہی ہے - ایک طرف جہاں وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں آج کشمیر میں صدر راج کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کیلئے بل منظور کرالیا وہیں انہوں نے اپوزیشن کو سخت جواب دیتے ہوئے بہت ہی زوردار انداز میں کہا جو لوگ ہندوستان کو توڑنے کی بات کریں گے انہیں ہم انہی کی زبان میں جواب دیں گے - کسی کو ڈرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے - سمجھنے اور سمجھانے کا وقت گزرچکا جتنی سہولتیں دی جانی تھیں وہ دی جاچکیں - اب وقت آگیا ہے کہ ایک پالیسی کے تحت خطہئ کشمیر کا تحفظ کریں - وزیر داخلہ کے اس جارحانہ رخ سے بھی لگتا ہے کہ وہ صدر راج کی مدت میں توسیع دراصل کشمیر کو اپنے طورپر بہتر کرنے کے لئے راہ ہموار کررہے ہیں - انہیں کسی کی قطعی ضرورت نہیں -ان کے جارحانہ رخ سے یہ بھی لگتا ہے کہ یہ کشمیریوں کا تحفظ نہیں بلکہ صرف کشمیر کی حفاظت چاہتے ہیں اس لئے فورس کو وہ کھلے عام چھوٹ دے رہے ہیں - کشمیر میں صدر راج کی مدت میں توسیع کے بل پر جہاں کانگریس نے سخت مخالفت کی وہیں سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور بیجوجنتادل نے حمایت کی- اس موقع پر راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ نے جموں وکشمیر ریزرویشن بل پیش کیا جسے بحث کے بعد منظورکرلیا گیا - اس بل سے جموں وکشمیر کے 435گاؤں کو فائدہ ہوگا جب کہ 3 اضلاع میں ریزرویشن کا نظم نہیں رہے گا-
حکومت کشمیر میں اعتماد سازی کی بحالی کا حل تلاش کرے-آزاد: راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں و کشمیر میں سرحد پار سے دہشت گردی کا سامنا کرنے کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ ریاست میں اسمبلی کے انتخابات جلد از جلد کرائے جانے چاہئیں -آزاد نے کہا کہ سال1947کے بعد سے ہی کشمیر کا مسئلہ حساس رہاہے -اس سلسلے میں تاریخ کو صحیح طریقے سے جاننا، پڑھنا اور پڑھانا چاہئے -انہوں نے جموں کشمیر کے ہندوستان میں ملانے کے عمل کی سلسلہ وار تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس پورے عمل میں پنڈت جواہر لال نہرو، شیخ عبداللہ، فوج اور کشمیر کے عوام کا تعاون رہا ہے -انہوں نے کہا کہ تاریخ کو غلط طریقے سے پڑھایا جا رہا ہے -اس وجہ سے بہت سارے مسائل پیدا ہورہے ہیں -حزب اختلاف کے رہنما نے کہا کہ حکومت کی زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے لیکن یہ زمین پر نہیں دکھائی دیتی ہے - گزشتہ پانچ سال میں کشمیر میں فوج کے جوانوں، سنٹرل ریزرو پولیس فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کاسب سے زیادہ قتل ہوا ہے - شہری بھی زیادہ تعداد میں مارے گئے ہیں - حکومت کو اسے سمجھنا چاہئے اور اپنی پالیسی پر غور کرنا چاہئے -انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اور تمام اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں حکومت کے ساتھ ہے -حکومت کو مقامی لوگوں کو ساتھ لینے کے لئے ان کا اعتماد جیتنا ہوگا-بحث کے دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے کانگریس پر جم کر نشانہ لگایا اور کہا کہ کشمیر کے حالات کے لئے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو ذمہ دار ہیں -اس پر کانگریس کے لیڈر بھڑک گئے اور کافی دیر تک ہنگامہ جاری رہا-امیت شاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت تیار ہے، الیکشن کمیشن جب چاہے ریاست میں اسمبلی انتخابات کرانے کا فیصلہ لے سکتا ہے-ریاست میں دسمبر تک صدر راج نافذ ہے-اس سے پہلے جون2018 سے گورنر راج نافذ تھا-شاہ نے کہا کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات حالیہ لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ نہیں کرائے گئے کیونکہ سبھی کی حفاظت کو یقینی بنانا ممکن نہیں تھا-انہوں نے کہا کہ انتخابات میں جن امیدواروں کے حصہ لینے کی امید تھی ان تمام کی حفاظت کو یقینی بنانا ممکن نہیں تھا-شاہ نے لوک سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی الیکشن کمیشن ریاست میں انتخابات کروانا چاہے گا،پولنگ ہوگی اور مرکز اس میں دخل نہیں دے گا-پہلے الیکشن کمیشن کو کانگریس اپنے قابو میں کرتی تھی، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے-شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت کو کانگریس سے جمہوریت پر سبق لینے کی ضرورت نہیں ہے-انہوں نے کہا کہ ریاست میں جب کانگریس اقتدار میں تھی تب تمام انتخابات جمہوریت کے نام پر ایک مذاق تھے- ماضی کی بات کرتے ہوئے شاہ نے کہاکہ1953 میں جب ایک ملک میں دو وزرائے اعظم والی بات کے خلاف شیاما پرساد مکھرجی کے خلاف مزاحمت کرنے کے لئے کشمیر گئے تھے، تو انہیں جیل میں ڈال دیا گیا تھا-شاہ نے پوچھاکہ ان کے قتل کی تحقیقات نہیں کی گئیں، کیوں؟ کیا وہ ایک سینئر اپوزیشن لیڈر نہیں تھے، بنگال کے لیڈر اور سابق مرکزی وزیر نہیں تھے؟پاکستان کے مقبوضہ کشمیر (پی اوکے) کے وجود کے لئے نہرو کو مجرم ٹھہراتے ہوئے شاہ نے کہاکہ اس وقت جنگ بندی کا اعلان کس نے کیاتھا؟ وہ نہرو تھے، جنہوں نے یہ کیا اوریہ حصہ پاکستان کو دے دیا-شاہ نے کہاکہ آپ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم لوگوں کو اعتماد میں لے کر نہیں چلتے لیکن نہرو نے اس وقت وزیر داخلہ کو اعتماد میں لئے بغیر یہ قدم اٹھایا-ہمیں تاریخ مت سکھائیں - انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہندوستان کا نام وہاں نہیں تھا-